ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الفتح (48) — آیت 13

وَ مَنۡ لَّمۡ یُؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ فَاِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَعِیۡرًا ﴿۱۳﴾
اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہ لایا تو یقینا ہم نے کافروں کے لیے بھڑکتی آگ تیار کر رکھی ہے۔ En
اور جو شخص خدا پر اور اس کے پیغمبر پر ایمان نہ لائے تو ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے آگ تیار کر رکھی ہے
En
اور جو شخص اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان نہ ﻻئے تو ہم نے بھی ایسے کافروں کے لئے دہکتی آگ تیار کر رکھی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 13) {وَ مَنْ لَّمْ يُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ …:} اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے متعلق برا گمان رکھے، مسلمان ہونے کے باوجود مسلمانوں کے نقصان پر اور اپنی جان بچانے پر خوش ہو وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایسے کافروں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کلمۂ اسلام کہنے اور مسلمانوں کے ساتھ مسلمان بن کر رہنے کی وجہ سے دنیوی احکام میں انھیں مسلمان ہی سمجھا جائے گا، مگر آخرت میں ان کے لیے کھلے کافروں سے بھی سخت عذاب تیار ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۴۵] بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔