ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ محمد (47) — آیت 31

وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ حَتّٰی نَعۡلَمَ الۡمُجٰہِدِیۡنَ مِنۡکُمۡ وَ الصّٰبِرِیۡنَ ۙ وَ نَبۡلُوَا۠ اَخۡبَارَکُمۡ ﴿۳۱﴾
اور ہم ضرور ہی تمھیں آزمائیں گے،یہاں تک کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات جانچ لیں۔ En
اور ہم تو لوگوں کو آزمائیں گے تاکہ جو تم میں لڑائی کرنے والے اور ثابت قدم رہنے والے ہیں ان کو معلوم کریں۔ اور تمہارے حالات جانچ لیں
En
یقیناً ہم تمہارا امتحان کریں گے تاکہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو ﻇاہر کر دیں اور ہم تمہاری حالتوں کی بھی جانچ کر لیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) ➊ { وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِيْنَ مِنْكُمْ …:} یہ مسلمانوں سے عام خطاب ہے کہ منافقوں کے ذکر سے یہ خیال نہ کرنا کہ تم امتحان سے مستثنیٰ ہو۔ ہر گز نہیں، بلکہ ہم ہر حال میں مختلف احکام کے ساتھ تمھاری آزمائش کریں گے، حتیٰ کہ تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تمھارے حالات کی خوب جانچ پڑتال کر لیں۔
➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو جس طرح گزشتہ اور موجودہ کاموں کا علم ہے وہ ان کاموں کو بھی جانتا ہے جو آئندہ ہونے والے ہیں، پھر اس بات کا کیا مطلب کہ یہاں تک کہ ہم تم میں سے جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو جان لیں؟ حافظ ابن کثیر نے فرمایا: مراد یہ ہے کہ ہم اس بات کا واقع ہونا جان لیں۔ اس لیے ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس جیسے الفاظ کے بارے میں فرمایا کہ{ نَعْلَمَ } کا معنی { نَرٰي } ہے، یعنی حتیٰ کہ ہم دیکھ لیں۔ (ابن کثیر) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ پہلے جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہو گا، مگر یہ بات کہ وہ کام واقع ہو چکا ہے اس کے علم میں اسی وقت آتی ہے جب وہ کام واقع ہو اور اس وقت ہی وہ اس کے واقع ہونے کو جانتا اور دیکھتا ہے۔ جو کام واقع ہی نہیں ہوا اس کے متعلق کیسے کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ واقع ہو چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۱۴۲)۔