ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ محمد (47) — آیت 24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا ﴿۲۴﴾
تو کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے، یا کچھ دلوں پر ان کے قفل پڑے ہوئے ہیں؟ En
بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر قفل لگ رہے ہیں
En
کیا یہ قران میں غور وفکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر تالے لگ گئے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24){ اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ …:} اوپر کی آیت کے سیاق کو ملحوظ رکھا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ یہ لوگ ملعون ہونے کی وجہ سے یا تو قرآن پر غور و تدبر ہی نہیں کرتے، یا کرتے ہیں تو اس کے معانی و مطالب ان کی سمجھ میں نہیں آتے، کیونکہ ان کے دلوں پر کفر و نفاق کے قفل چڑھے ہوتے ہیں۔ ہاں، اگر صدقِ نیت سے غور کرتے تو ضرور سمجھ لیتے کہ جہاد میں کس قدر دنیوی اور اخروی فوائد ہیں۔