ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الأحقاف (46) — آیت 32

وَ مَنۡ لَّا یُجِبۡ دَاعِیَ اللّٰہِ فَلَیۡسَ بِمُعۡجِزٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَیۡسَ لَہٗ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءُ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۲﴾
اور جو اللہ کی طرف بلانے والے کی دعوت قبول نہ کرے گا تو نہ وہ زمین میں کسی طرح عاجز کرنے والا ہے اور نہ ہی اس کے سوا اس کے کوئی مدد گار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں۔ En
اور جو شخص خدا کی طرف بلانے والے کی بات قبول نہ کرے گا تو وہ زمین میں (خدا کو) عاجز نہیں کرسکے گا اور نہ اس کے سوا اس کے حمایتی ہوں گے۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں ہیں
En
اور جو شخص اللہ کے بلانے والے کا کہا نہ مانے گا پس وه زمین میں کہیں (بھاگ کر اللہ کو) عاجز نہیں کر سکتا، نہ اللہ کے سوا اور کوئی اس کے مدد گار ہوں گے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) ➊ {وَ مَنْ لَّا يُجِبْ دَاعِيَ اللّٰهِ …:} بشارت کے بعد یہ نذارت ہے، جس میں اس کتاب پر ایمان نہ لانے والوں کو ڈرایا گیا ہے۔ یہ وہی بات ہے جو سورۂ جن میں ان الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے: «‏‏‏‏وَ اَنَّا ظَنَنَّاۤ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللّٰهَ فِي الْاَرْضِ وَ لَنْ نُّعْجِزَهٗ هَرَبًا» ‏‏‏‏ [الجن: ۱۲] اور یہ کہ ہم نے یقین کر لیا کہ بے شک ہم کبھی اللہ کو زمین میں عاجز نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی بھاگ کر کبھی اسے عاجز کر سکیں گے۔
➋ { وَ لَيْسَ لَهٗ مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِيَآءُ:} یعنی اللہ تعالیٰ کی دعوت قبول نہ کرنے والا نہ خود دنیا یا آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بھاگ کر کہیں جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی طرح کے مددگار اس کی مدد کو پہنچ سکتے ہیں۔