کہہ دے اللہ ہی تمھیں زندگی بخشتا ہے، پھر تمھیں موت دیتا ہے، پھر تمھیں قیامت کے دن کی طرف(لے جا کر)جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
En
کہہ دو کہ خدا ہی تم کو جان بخشتا ہے پھر (وہی) تم کو موت دیتا ہے پھر تم کو قیامت کے روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں تم کو جمع کرے گا لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے
(آیت 26) ➊ { قُلِاللّٰهُيُحْيِيْكُمْثُمَّيُمِيْتُكُمْ:} یہ ان کی مزعومہ حجت کا جواب ہے کہ تم اپنے اختیار سے اتفاقاً پیدا نہیں ہو گئے، نہ تمھاری موت تمھارے اختیار سے یا اتفاقاً واقع ہوتی ہے، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ ہے جو تمھیں زندگی بخشتا ہے اور تمھیں موت دیتا ہے۔ پھر جب چاہے گا دوبارہ زندہ کر دے گا، اس میں تمھارا کوئی اختیار یا عمل دخل نہیں ہو گا۔ ➋ {ثُمَّيَجْمَعُكُمْاِلٰىيَوْمِالْقِيٰمَةِ …:} یعنی تمھیں الگ الگ زندہ نہیں کرے گا کہ کچھ لوگوں کو ایک وقت زندہ کیا، دوسروں کو کسی اور وقت اور باقی کو کسی تیسرے وقت، بلکہ سب اگلے پچھلوں کو قیامت کے دن تک لے جا کر ایک ہی وقت میں جمع کر دے گا۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۸)۔ ➌ { لَارَيْبَفِيْهِوَلٰكِنَّاَكْثَرَالنَّاسِلَايَعْلَمُوْنَ:} یعنی قیامت واقع ہونے میں تو کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ اس کا انکار اس لیے کرتے ہیں کہ وہ جاہل ہیں۔ وہ حقیقت کو نہ جانتے ہیں نہ جاننا چاہتے ہیں اور اپنی خواہش کے خلاف نہ کسی کی بات سنتے ہیں نہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَقَالُوْالَوْكُنَّانَسْمَعُاَوْنَعْقِلُمَاكُنَّافِيْۤاَصْحٰبِالسَّعِيْرِ»[الملک: ۱۰]” اور وہ کہیں گے اگر ہم سنتے ہوتے، یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔