ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الجاثيه (45) — آیت 21

اَمۡ حَسِبَ الَّذِیۡنَ اجۡتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنۡ نَّجۡعَلَہُمۡ کَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۙ سَوَآءً مَّحۡیَاہُمۡ وَ مَمَاتُہُمۡ ؕ سَآءَ مَا یَحۡکُمُوۡنَ ﴿٪۲۱﴾
یا وہ لوگ جنھوں نیبرائیوں کا ارتکاب کیا، انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے؟ ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر ہو گا؟ برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔ En
جو لوگ برے کام کرتے ہیں کیا وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ان کی زندگی اور موت یکساں ہوگی۔ یہ جو دعوے کرتے ہیں برے ہیں
En
کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیں یہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمان ﻻئے اور نیک کام کیے کہ ان کا مرنا جینا یکساں ہوجائے، برا ہے وه فیصلہ جو وه کررہے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 21) ➊ { اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ اجْتَرَحُوا السَّيِّاٰتِ …:} توحید کی دعوت کے بعد یہاں سے آخرت پر کلام شروع ہو رہا ہے اور یہ آیت آخرت کے حق ہونے کی دلیل ہے۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ص (۲۸) اور سورۂ قلم (۳۴ تا ۳۸)۔
➋ {سَوَآءً مَّحْيَاهُمْ وَ مَمَاتُهُمْ …:} یعنی کفار زندگی میں اپنی مرضی کرتے رہے اور بے لگام ہو کر اپنی خواہشات پوری کرتے رہے، جس کے نتیجے میں انھوں نے زمین میں فساد برپا رکھا اور لوگوں پر اور اپنی جانوں پر بے حساب ظلم کرتے رہے، جب کہ مومن اپنی خواہشات کو روک کر رب تعالیٰ کے احکام کے پابند رہے۔ اب اگر مرنے کے بعد بھی کفار کو ان کے جرائم کی سزا اور ایمان والوں کو ان کے اعمال صالحہ کی جزا نہ ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ عدل اور صفتِ حکمت دونوں کے خلاف ہے۔ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں وہ ایمان و کفر، نیکی و بدی اور ظلم و عدل کو برابر قرار دے رہے ہیں جو ان کا بہت برا فیصلہ ہے۔