ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 59

فَارۡتَقِبۡ اِنَّہُمۡ مُّرۡتَقِبُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾
پس انتظار کر،بے شک وہ بھی انتظار کرنے والے ہیں۔ En
پس تم بھی انتظار کرو یہ بھی انتظار کر رہے ہیں
En
اب تو منتظر ره یہ بھی منتظر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 59) {فَارْتَقِبْ اِنَّهُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ:} یعنی اگر قرآن آسان ہونے کے باوجود یہ لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے تو آپ انتظار کیجیے کہ کب اللہ کی پکڑ ان پر آتی ہے۔ یہ لوگ بھی انتظار کر رہے ہیں کہ آپ کب زمانے کی کسی گردش میں آتے ہیں اور کب ان کی جان چھوٹتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اَمْ يَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَيْبَ الْمَنُوْنِ (30) قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِيْنَ» ‏‏‏‏ [الطور: ۳۰، ۳۱] یا وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے جس پر ہم زمانے کے حوادث کا انتظار کرتے ہیں؟ کہہ دے انتظار کرو، پس بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں سے ہوں۔