(آیت 49) {ذُقْاِنَّكَاَنْتَالْعَزِيْزُالْكَرِيْمُ: ”ذُقْ“”ذَاقَيَذُوْقُذَوْقًا“} (ن) سے امر ہے، چکھو۔ یہ بات ان سے طنز اور مذاق کے طور پر کہی جائے گی، کیونکہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھتے اور باور کرواتے تھے۔ جملے کی خبر {”الْعَزِيْزُالْكَرِيْمُ“} پر الف لام اور ضمیرِ فصل {”اَنْتَ“} سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے کہ تو ہی وہ شخص ہے جو عزیز و کریم ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔