ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الدخان (44) — آیت 49

ذُقۡ ۚۙ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡکَرِیۡمُ ﴿۴۹﴾
چکھ، بے شک تو ہی وہ شخص ہے جو بڑا زبردست، بہت باعزت ہے۔ En
(اب) مزہ چکھ۔ تو بڑی عزت والا (اور) سردار ہے
En
(اس سے کہا جائے گا) چکھتا جا تو تو بڑا ذی عزت اور بڑے اکرام واﻻ تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) {ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ: ذُقْ ذَاقَ يَذُوْقُ ذَوْقًا} (ن) سے امر ہے، چکھو۔ یہ بات ان سے طنز اور مذاق کے طور پر کہی جائے گی، کیونکہ وہ دنیا میں اپنے آپ کو ایسا ہی سمجھتے اور باور کرواتے تھے۔ جملے کی خبر { الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ } پر الف لام اور ضمیرِ فصل { اَنْتَ } سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے کہ تو ہی وہ شخص ہے جو عزیز و کریم ہے۔