(آیت 33) {وَاٰتَيْنٰهُمْمِّنَالْاٰيٰتِ …: ”بَلٰٓؤٌا“} کا معنی آزمائش ہے، یہ لفظ مصیبت اور انعام دونوں معنوں میں آتا ہے، کیونکہ آزمائش دونوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ یہاں مراد ان پر کیے جانے والے احسانات ہیں، جن میں آزادی، صحرا میں کھانے پینے اور دھوپ سے بچنے کی تمام ضرورتوں کا انتظام اور پھر ارضِ مقدس کی تولیت کا شرف سب چیزیں شامل ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۹)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔