ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 82

سُبۡحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۸۲﴾
پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب، جو عرش کا رب ہے، اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔ En
یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں آسمانوں اور زمین کا مالک (اور) عرش کا مالک اس سے پاک ہے
En
آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس سے (بہت) پاک ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 82) {سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ:} یعنی اولاد ہونا کمزوری، محتاجی اور عجز کی دلیل ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۱۱۱) جب کہ اللہ تعالیٰ عجز اور احتیاج سے پاک ہے۔ وہ آسمانوں کا، زمین کا اور عرش کا مالک اور پروردگار اولاد سے اور ان تمام کمزوریوں اور عیبوں سے پاک ہے جو مشرک لوگ اس کے لیے بیان کرتے ہیں۔