ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الزخرف (43) — آیت 74

اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۴﴾
بے شک مجر م لوگ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
(اور کفار) گنہگار ہمیشہ دوزخ کے عذاب میں رہیں گے
En
بیشک گنہگار لوگ عذاب دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 74){ اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ:} ایمان والوں کا حسنِ انجام بیان کرنے کے بعد کفار کا انجام بد بیان فرمایا۔ یہاں { الْمُجْرِمِيْنَ } سے مراد کفار ہیں، کیونکہ ان کا ذکر { مُسْلِمِيْنَ } کے مقابلے میں آیا ہے اور جہنم میں ہمیشہ رہنے والے کفار ہی ہیں۔ سورۂ مطففین میں بھی کفار کے لیے { الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا } کا لفظ استعمال ہوا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ» ‏‏‏‏ [المطففین: ۲۹] بے شک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے، ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔