(آیت 7،6) {وَكَمْاَرْسَلْنَامِنْنَّبِيٍّفِيالْاَوَّلِيْنَ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے اور جھٹلانے والوں کے لیے تنبیہ۔ یعنی آپ پہلے نبی نہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور جس کا مذاق اڑایا گیا ہو اور نہ یہ پہلے مذاق اڑانے والے ہیں، بلکہ آپ سے پہلے لوگوں میں ہم نے کتنے ہی نبی بھیجے، ان کا حال بھی یہی تھا کہ ان کے پاس جو نبی آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، مگر نہ ہم نے نصیحت کا سلسلہ ترک کیا اور نہ پیغمبروں کا سلسلہ بند کیا، تو ان کے مسرف و منکر ہونے کی وجہ سے ہم انھیں نصیحت کرنا کیوں چھوڑیں گے؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔