(آیت 16) {اَمِاتَّخَذَمِمَّايَخْلُقُبَنٰتٍ …:} ان کی نا شکری کی انتہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرائی تو بیٹیاں جو بیٹوں سے کم تر ہوتی ہیں، جب کہ اپنے لیے وہ بیٹوں کے خواہش مند ہیں۔ {”اَمْ“} (یا) سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے، یعنی (کیا اسے زبردستی لڑکیاں دے دی گئی ہیں جنھیں وہ ہٹا نہیں سکا) یا خود ہی اپنی ساری قدرت و اختیار کے باوجود لڑکیاں لینے پر راضی ہو گیا اور تمھیں بیٹے دینے کے لیے چن لیا، حالانکہ کم تر چیز پر تو کوئی بے وقوف ہی راضی ہوتا ہے۔ سوچو! تم اللہ کی کتنی بڑی گستاخی کر رہے ہو۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔