(آیت 43){ وَلَمَنْصَبَرَوَغَفَرَاِنَّذٰلِكَلَمِنْعَزْمِالْاُمُوْرِ: ”عَزْمِ“} کا معنی ہے کسی کام کا پختہ ارادہ کر لینا، اسے اپنے آپ پر واجب کر لینا کہ میں یہ کام ضرور کروں گا۔ {”عَزْمِ“} مصدر بمعنی اسم مفعول ہے جو اپنے موصوف کی طرف مضاف ہے: {”أَيْاَلْأُمُوْرُالْمَعْزُوْمَةُ“} یعنی یہ کام ان امور میں سے ہے جن کا بڑی ہمت سے عزم کیا جاتا ہے۔ یقینا جو شخص صبر کرے اور معاف کر دے، جب کہ معاف کرنے میں ظلم اور سرکشی کی حوصلہ افزائی نہ ہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے، جو ہر عقل مند کو اپنے آپ پر واجب کر لینا چاہیے۔ مزید دیکھیے سورۂ لقمان (۱۷)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔