ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ فصلت/حم السجده (41) — آیت 51

وَ اِذَاۤ اَنۡعَمۡنَا عَلَی الۡاِنۡسَانِ اَعۡرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِہٖ ۚ وَ اِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ فَذُوۡ دُعَآءٍ عَرِیۡضٍ ﴿۵۱﴾
اور جب ہم انسان پر انعا م کرتے ہیں وہ منہ موڑ لیتا ہے اور اپنا پہلو دور کر لیتا ہے اور جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو(لمبی) چوڑی دعا والا ہے۔
اور جب ہم انسان پر کرم کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے اور پہلو پھیر کر چل دیتا ہے۔ اور جب اس کو تکلیف پہنچتی ہے تو لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے
اور جب ہم انسان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو وه منھ پھیر لیتا ہے اور کناره کش ہوجاتا ہے اور جب اسے مصیبت پڑتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے واﻻ بن جاتا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) {وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ: نَأٰي يَنْأٰي نَأْيًا} (ف) دور ہونا۔ یہ فعل لازم ہے، { بِجَانِبِهٖ } پر آنے والی باء کے ساتھ متعدی ہو گیا، اس لیے { نَاٰ بِجَانِبِهٖ } کا معنی ہے اپنا پہلو دور کر لیتا ہے۔ پچھلی آیت میں کافر انسان کا قول بیان ہوا ہے، اس آیت میں اس کا حال بیان ہوا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۲)۔ ہود(11،10) اور سورۂ زمر (۴۹)۔