اور جب ہم انسان پر اپنا انعام کرتے ہیں تو وه منھ پھیر لیتا ہے اور کناره کش ہوجاتا ہے اور جب اسے مصیبت پڑتی ہے تو بڑی لمبی چوڑی دعائیں کرنے واﻻ بن جاتا ہے
En
(آیت 51) {وَاِذَاۤاَنْعَمْنَاعَلَىالْاِنْسَانِاَعْرَضَوَنَاٰبِجَانِبِهٖ: ”نَأٰييَنْأٰينَأْيًا“} (ف) دور ہونا۔ یہ فعل لازم ہے، {”بِجَانِبِهٖ“} پر آنے والی ”باء“ کے ساتھ متعدی ہو گیا، اس لیے {”نَاٰبِجَانِبِهٖ“} کا معنی ہے اپنا پہلو دور کر لیتا ہے۔ پچھلی آیت میں کافر انسان کا قول بیان ہوا ہے، اس آیت میں اس کا حال بیان ہوا ہے۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (۱۲)۔ ہود(11،10) اور سورۂ زمر (۴۹)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔