(آیت 23) {وَذٰلِكُمْظَنُّكُمُالَّذِيْظَنَنْتُمْبِرَبِّكُمْ …:”ذٰلِكُمْ“} کی خبر{”ظَنُّكُمْ“} معرفہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”یہی تمھارا گمان تھا“ کیا گیا ہے۔ {”أَرْدٰييُرْدِيْ“} (افعال) ہلاک کرنا۔ یعنی تمھارے اسی باطل گمان اور غلط عقیدے نے کہ اللہ تعالیٰ کو تمھارے بہت سے اعمال کا علم نہیں ہوتا، تمھیں ہلاک کر دیا، کیونکہ اس سے تم اس کی نافرمانی پر دلیر ہو گئے اور خسارا پانے والوں میں سے ہو گئے۔ یاد رہے کہ گمراہی کے اسباب میں سے بہت بڑا سبب صحیح غور و فکر نہ کرنا اور محض گمان کے پیچھے چلتے رہنا ہے۔ مشرکین کی اصل گمراہی بھی یہی تھی، جیسا کہ فرمایا: «اِنْيَّتَّبِعُوْنَاِلَّاالظَّنَّ»[الأنعام: ۱۱۶]”وہ تو گمان کے سوا کسی چیز کی پیروی نہیں کرتے۔“ اور فرمایا: «يَظُنُّوْنَبِاللّٰهِغَيْرَالْحَقِّظَنَّالْجَاهِلِيَّةِ» [آل عمران: ۱۵۴]”وہ اللہ کے بارے میں ناحق جاہلیت کا گمان کر رہے تھے۔“
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔