(آیت 20) {حَتّٰۤىاِذَامَاجَآءُوْهَاشَهِدَعَلَيْهِمْسَمْعُهُمْ …:} زمخشری نے فرمایا: {”اِذَا“} کے بعد لفظ{”مَا“} اس کی تاکید کے لیے ہے، تاکید کا مطلب یہ ہے کہ آگ کے پاس پہنچنے کا وقت ہی ان پر شہادت کا وقت ہو گا، یہ نہیں کہ کچھ وقت شہادت سے خالی ہو۔“ (کشاف) اس لیے میں نے {”اِذَامَا“} کا ترجمہ ”جونہی“ کیا ہے۔ یعنی آگ کے پاس پہنچنے پر جب وہ اپنے جرائم سے انکار کریں گے تو فوراً ہی ان کے کان، آنکھیں اور چمڑے ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ اس کی تفصیل سورۂ یس کی آیت (۶۵): «اَلْيَوْمَنَخْتِمُعَلٰۤىاَفْوَاهِهِمْ» میں گزر چکی ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔