ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 8

رَبَّنَا وَ اَدۡخِلۡہُمۡ جَنّٰتِ عَدۡنِۣ الَّتِیۡ وَعَدۡتَّہُمۡ وَ مَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِہِمۡ وَ اَزۡوَاجِہِمۡ وَ ذُرِّیّٰتِہِمۡ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ۙ﴿۸﴾
اے ہمارے رب! اور انھیں ہمیشہ رہائش والی ان جنتوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کو بھی جو ان کے باپ دادوںاور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے لائق ہیں۔ بلاشبہ تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے ۔ En
اے ہمارے پروردگار ان کو ہمیشہ رہنے کے بہشتوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے باپ دادا اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے نیک ہوں ان کو بھی۔ بےشک تو غالب حکمت والا ہے
En
اے ہمارے رب! تو انہیں ہمیشگی والی جنتوں میں لے جا جن کا تو نے ان سے وعده کیا ہے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻد میں سے (بھی) ان (سب) کو جو نیک عمل ہیں۔ یقیناً تو تو غالب و باحکمت ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 8) ➊ {رَبَّنَا وَ اَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنٍ الَّتِيْ وَعَدْتَّهُمْ:} یعنی گناہوں کی مغفرت اور جہنم سے نجات ہی کافی نہیں، بلکہ انھیں دائمی اقامت والی جنتوں میں داخل فرما، جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۹۴)۔
➋ {وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىِٕهِمْ وَ اَزْوَاجِهِمْ وَ ذُرِّيّٰتِهِمْ:} اس آیت میں مذکور وعدے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ رعد (۲۳) اور سورۂ طور (۲۱)۔
➌ {اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} یقینا تو ہی سب پر غالب ہے، جسے تو بخشنا چاہے بخش سکتا ہے، کوئی بھی تیرا ہاتھ پکڑ نہیں سکتا اور تو کمال حکمت والا ہے، اپنی حکمت کے تحت ہی تو نے ایمان والوں کو معاف کرنے اور ان کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ان کے والدین اور بیوی بچوں کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔