(آیت 76) {اُدْخُلُوْۤااَبْوَابَجَهَنَّمَخٰلِدِيْنَفِيْهَا …: ”اُدْخُلُوْۤا“} کی مناسبت سے{”فَبِئْسَمَدْخَلُالْمُتَكَبِّرِيْنَ“} (متکبروں کے داخل ہونے کی جگہ بری) ہونا چاہیے تھا، مگر {”خٰلِدِيْنَفِيْهَا“} کی مناسبت سے {”فَبِئْسَمَثْوَىالْمُتَكَبِّرِيْنَ“} فرمایا، یعنی وہ متکبرین کے رہنے کی بری جگہ ہے۔ {”مَثْوَىالْمُتَكَبِّرِيْنَ“} کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جہنم میں ہمیشہ کے لیے داخل ہونے کا باعث تکبر ہے، جس نے انھیں اللہ کی آیات کو جھٹلانے پر اور ان کے بارے میں جدال پر ابھارا، جس جدال کی مذمت اس سورت کا ایک بنیادی موضوع ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔