ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 76

اُدۡخُلُوۡۤا اَبۡوَابَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ۚ فَبِئۡسَ مَثۡوَی الۡمُتَکَبِّرِیۡنَ ﴿۷۶﴾
جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ، اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو، پس وہ تکبر کرنے والوں کی بری جگہ ہے۔ En
(اب) جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ متکبروں کا کیا برا ٹھکانا ہے
En
(اب آؤ) جہنم میں ہمیشہ رہنے کے لیے (اس کے) دروازوں میں داخل ہو جاؤ، کیا ہی بری جگہ ہے تکبر کرنے والے کی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 76) {اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَا …: اُدْخُلُوْۤا } کی مناسبت سے{ فَبِئْسَ مَدْخَلُ الْمُتَكَبِّرِيْنَ} (متکبروں کے داخل ہونے کی جگہ بری) ہونا چاہیے تھا، مگر { خٰلِدِيْنَ فِيْهَا } کی مناسبت سے { فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ } فرمایا، یعنی وہ متکبرین کے رہنے کی بری جگہ ہے۔ { مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِيْنَ } کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جہنم میں ہمیشہ کے لیے داخل ہونے کا باعث تکبر ہے، جس نے انھیں اللہ کی آیات کو جھٹلانے پر اور ان کے بارے میں جدال پر ابھارا، جس جدال کی مذمت اس سورت کا ایک بنیادی موضوع ہے۔