ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 69

اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ یُجَادِلُوۡنَ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ ؕ اَنّٰی یُصۡرَفُوۡنَ ﴿ۖۛۚ۶۹﴾
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اللہ کی آیات کے بارے میں جھگڑتے ہیں، کہاں پھیرے جا رہے ہیں۔ En
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو خدا کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں۔ یہ کہاں بھٹک رہے ہیں؟
En
کیا تو نے انہیں دیکھا جو اللہ کی آیتوں میں جھگڑتے ہیں، وه کہاں پھیر دیے جاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 69) { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يُجَادِلُوْنَ …:} اس سورت میں شروع سے یہاں تک کفار کے ناحق جدال کا اور اس کی مذمت کا پانچ مرتبہ ذکر آیا ہے۔ دیکھیے آیت (۴، ۵، ۳۵، ۵۶، ۶۹) یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان آیات کے سننے یا پڑھنے والے ہر شخص کو فرمایا کہ (سورت کے شروع سے یہاں تک کی تقریر سے) کیا تمھیں معلوم نہیں ہوا کہ اللہ کی آیات میں ناحق جھگڑا اور کج بحثی کرنے والے لوگ ان کے صحیح ہونے کے دلائل جاننے کے باوجود کہاں سے ٹھوکر کھا کر گمراہی کے گڑھے میں گر رہے ہیں؟