(آیت 6){ وَكَذٰلِكَحَقَّتْكَلِمَتُرَبِّكَ …:} اس کی دو تفسیریں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ جس طرح پہلی قوموں پر تیرے رب کے عذاب آنے کی بات ثابت ہو چکی اور وہ تباہ و برباد کر دی گئیں، اسی طرح اب جو لوگ کفر کر رہے ہیں ان پر بھی تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے کہ وہ آگ میں جانے والے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان قوموں پر دنیا میں جو عذاب آیا اسی پر بس نہیں، بلکہ ان کے متعلق دنیا کے عذاب کی طرح تیرے رب کی یہ بات بھی طے ہو چکی ہے کہ آخرت میں بھی وہ آگ میں رہنے والے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔