ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 31

مِثۡلَ دَاۡبِ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ؕ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیۡدُ ظُلۡمًا لِّلۡعِبَادِ ﴿۳۱﴾
نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور ان لوگوں کے حال کی مانند سے جو ان کے بعد تھے اور اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کے ظلم کا ارادہ نہیں کرتا۔ En
یعنی) نوح کی قوم اور عاد اور ثمود اور جو لوگ ان کے پیچھے ہوئے ہیں ان کے حال کی طرح (تمہارا حال نہ ہوجائے) اور خدا تو بندوں پر ظلم کرنا نہیں چاہتا
En
جیسے امت نو ح اور عاد وﺛمود اور ان کے بعد والوں کا (حال ہوا)، اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کا ﻇلم کرنا نہیں چاہتا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 31) ➊ { مِثْلَ دَاْبِ قَوْمِ نُوْحٍ …: دَأَبَ يَدْأَبُ دَأْبًا} (ف) کسی کام میں مسلسل لگے رہنا۔ { دَاْبِ } اصل میں عادت کو کہتے ہیں، کیونکہ اس میں ہمیشگی ہوتی ہے، پھر کسی کے حال یا معاملے کے معنی میں بھی استعمال ہونے لگا۔ یعنی میں تمھارے بارے میں ڈرتا ہوں کہ تمھارا حال قوم نوح، عاد و ثمود اور ان لوگوں جیسا نہ ہو جو ان کے بعد تھے، مثلاً قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ، جنھوں نے اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا اور انھیں ایذا پہنچانے کی کوشش کی تو ان پر اللہ تعالیٰ کا ایسا عذاب آیا جس نے انھیں بری طرح تباہ و برباد کر دیا۔
➋ { وَ مَا اللّٰهُ يُرِيْدُ ظُلْمًا لِّلْعِبَادِ: ظُلْمًا } کی تنوین تنکیر کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کسی طرح کا ظلم کیا گیا ہے۔ یعنی ان اقوام پر جو عذاب آیا وہ ان کے اپنے اعمالِ بد کا نتیجہ تھا، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کسی طرح کے ظلم کا ارادہ تک نہیں کرتا تو وہ ظلم کیوں کرے گا، پھر ظلم بھی اپنے بندوں پر؟ یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ النَّاسَ شَيْـًٔا وَّ لٰكِنَّ النَّاسَ اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [یونس: ۴۴] بے شک اللہ لوگوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا اور لیکن لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔