پس جب وہ ہمارے ہاں سے حق لے کر ان کے پاس آیا تو انھوں نے کہا ان لوگوں کے بیٹوں کو، جو اس کے ہمراہ ایمان لائے ہیں، قتل کرو اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دو اور نہیں کافروں کی چال مگر سراسر ناکام۔
En
غرض جب وہ ان کے پاس ہماری طرف سے حق لے کر پہنچے تو کہنے لگے کہ جو اس کے ساتھ (خدا پر) ایمان لائے ہیں ان کے بیٹوں کو قتل کردو اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دو۔ اور کافروں کی تدبیریں بےٹھکانے ہوتی ہیں
پس جب ان کے پاس (موسیٰ علیہ السلام) ہماری طرف سے (دین) حق کولے کر آئے توانہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ جوایمان والے ہیں ان کے لڑکوں کو تو مار ڈالو اور ان کی لڑکیوں کو زنده رکھو اور کافروں کی جو حیلہ سازی ہے وه غلطی میں ہی ہے
En
(آیت 25) ➊ {فَلَمَّاجَآءَهُمْبِالْحَقِّمِنْعِنْدِنَا …:} فرعون موسیٰ علیہ السلام کی آمد سے پہلے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ (دیکھیے قصص: ۴) موسیٰ علیہ السلام کی آمد پر ان کے واضح معجزات دیکھ کر اور جادوگروں کے ساتھ مقابلے میں ناکام ہو کر وہ ایسا مرعوب ہوا کہ اس نے لڑکوں کو قتل کرنے کا سلسلہ روک دیا، مگر دن بدن ایمان لانے والوں میں اضافے کو دیکھ کر اس کے سرداروں نے اسے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے خلاف کارروائی پر بھڑکایا۔ اس سے پہلے وہ تمام بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کرتے تھے، اب انھوں نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کے بیٹوں کو قتل کرو اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھو۔ یہ بات فرعون نے نہیں بلکہ اس کے درباریوں نے کہی، فرعون نے ان سے ایسا کرنے کا وعدہ کر لیا، جیسا کہ سورۂ اعراف میں ہے: «سَنُقَتِّلُاَبْنَآءَهُمْوَنَسْتَحْيٖنِسَآءَهُمْ» [الأعراف: ۱۲۷]”ہم ضرور ان کے بیٹوں کو بری طرح قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے۔“ مگر وہ ایسا نہ کر سکا۔ ➋ { وَمَاكَيْدُالْكٰفِرِيْنَاِلَّافِيْضَلٰلٍ:} اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ظاہر ہے کہ وہ اپنا ارادہ پورا نہ کر سکا اور اپنے منصوبے میں بھی ناکام رہا۔ قحط سالیوں، پیداوار کی کمی اور طوفان، ٹڈیوں، جوؤں، مینڈکوں اور خون کے پے در پے عذابوں نے اسے دم ہی نہیں لینے دیا کہ وہ دوبارہ یہ کام کر سکتا، حتیٰ کہ اسے اس کی قوم سمیت سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۳۰ تا ۱۳۶)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔