اور کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، وہ تو قوت میں ان سے بہت زیادہ سخت تھے اور زمین میں یادگاروں کے اعتبار سے بھی، پھر اللہ نے انھیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیا اور انھیں اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔
En
کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھ لیتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ وہ ان سے زور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے لحاظ سے کہیں بڑھ کر تھے تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب پکڑ لیا۔ اور ان کو خدا (کے عذاب) سے کوئی بھی بچانے والا نہ تھا
کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا نتیجہ کیسا کچھ ہوا؟ وه باعتبار قوت و طاقت کے اور باعتبار زمین میں اپنی یادگاروں کے ان سے بہت زیاده تھے، پس اللہ نے انہیں ان کے گناہوں پر پکڑ لیا اور کوئی نہ ہوا جو انہیں اللہ کے عذاب سے بچا لیتا
En
(آیت 21) ➊ { اَوَلَمْيَسِيْرُوْافِيالْاَرْضِ …:} گزشتہ آیات میں کفار کو آخرت کے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، اب دنیا میں آنے والے عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے کہ کیا ان لوگوں نے زمین میں چل پھر کر ان قوموں کا انجام نہیں دیکھا جو ان سے پہلے انبیاء کو جھٹلانے کے جرم میں ہلاک کی گئیں؟ ➋ {كَانُوْاهُمْاَشَدَّمِنْهُمْقُوَّةًوَّاٰثَارًافِيالْاَرْضِ …:} اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ روم کی آیت (۹) کی تفسیر۔ ➌ {وَمَاكَانَلَهُمْمِّنَاللّٰهِمِنْوَّاقٍ: ”وَاقٍ“} اصل میں {”وَاقِيٌ“} ہے، جو {”وَقٰييَقِيْوِقَايَةً“} (ض) سے اسم فاعل ہے، بچانے والا۔ یعنی ان سے زیادہ قوت و آثار والی اقوام پر ان کے گناہوں کی وجہ سے جب اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی تو انھیں اللہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔ اسی طرح جب ان لوگوں پر اللہ کا عذاب آیا تو انھیں بھی کوئی نہیں بچا سکے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔