ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 12

ذٰلِکُمۡ بِاَنَّہٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحۡدَہٗ کَفَرۡتُمۡ ۚ وَ اِنۡ یُّشۡرَکۡ بِہٖ تُؤۡمِنُوۡا ؕ فَالۡحُکۡمُ لِلّٰہِ الۡعَلِیِّ الۡکَبِیۡرِ ﴿۱۲﴾
یہ اس لیے کہ حقیقت یہ ہے کہ جب اس اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تو تم انکار کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا یا جاتا تو تم مان لیتے تھے، اب فیصلہ اللہ کے اختیار میں ہے جو بہت بلند، بہت بڑا ہے۔ En
یہ اس لئے کہ جب تنہا خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کردیتے تھے۔ اور اگر اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جاتا تھا تو تسلیم کرلیتے تھے تو حکم تو خدا ہی کا ہے جو (سب سے) اوپر اور (سب سے) بڑا ہے
En
یہ (عذاب) تمہیں اس لیے ہے کہ جب صرف اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا تو تم انکار کر جاتے تھے اور اگر اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جاتا تھا تو تم مان لیتے تھے پس اب فیصلہ اللہ بلند و بزرگ ہی کا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 12) ➊ { ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِيَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ …:} یعنی انھیں جواب ملے گا کہ آج تم جس حال میں مبتلا ہو وہ اس لیے ہے کہ دنیا میں جب اکیلے اللہ کو پکارا جاتا تو تم نہیں مانتے تھے، لیکن جب اس کے ساتھ دوسرے معبود بھی شریک کیے جاتے تو تم مان لیتے تھے۔ اکیلے اللہ کی عبادت تو در کنار، اکیلے اللہ کے ذکر پر ہی تمھارے دل تنگ پڑ جاتے تھے اور غیروں کے ذکر پر تمھارے چہرے خوشی سے چمک اٹھتے تھے۔ (دیکھیے زمر: ۴۵) اب اگر تمھیں دوبارہ دنیا میں بھیج بھی دیا جائے تو تم وہی کچھ کرو گے جو تم پہلے کرتے رہے، اس لیے تمھارے جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں۔ دیکھیے سورۂ انعام (۲۸)۔
➋ { فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِيِّ الْكَبِيْرِ:} تو اب فیصلے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جو بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔ آج تمھارے بنائے ہوئے دیوتاؤں، داتاؤں، مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کا فیصلے میں کوئی دخل نہیں۔ ان ہستیوں کا { الْعَلِيِّ الْكَبِيْرِ } کے فیصلے میں کیا دخل ہو سکتا ہے جن کا خمیر ہی پستی اور بے بضاعتی سے اٹھایاگیا ہے۔