بے شک وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھیں پکار کر کہا جائے گا کہ یقینا اللہ کا ناراض ہونا بہت زیادہ تھا تمھارے اپنے آپ پر ناراض ہونے سے، جب تمھیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے۔
En
جن لوگوں نے کفر کیا ان سے پکار کر کہہ دیا جائے گا کہ جب تم (دنیا میں) ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے اور مانتے نہیں تھے تو خدا اس سے کہیں زیادہ بیزار ہوتا تھا جس قدر تم اپنے آپ سے بیزار ہو رہے ہو
بےشک جن لوگوں نے کفر کیا انہیں یہ آواز دی جائے گی کہ یقیناً اللہ کا تم پر غصہ ہونااس سے بہت زیاده ہے جو تم غصہ ہوتے تھے اپنے جی سے، جب تم ایمان کی طرف بلائے جاتے تھے پھر کفر کرنے لگتے تھے
En
(آیت 10) { اِنَّالَّذِيْنَكَفَرُوْايُنَادَوْنَ …: ”مَقْتٌ“} شدید غصے اور ناراضی کو کہتے ہیں۔ {”يُنَادَوْنَ“} ”انھیں پکار کر کہا جائے گا“ انھیں کون پکارے گا؟ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے نہیں کیا۔ ظاہر ہے انھیں یہ کہنے والا اللہ تعالیٰ خود ہو سکتا ہے یا جہنم پر مقرر فرشتے ہو سکتے ہیں۔ اس سے پہلی آیات میں ایمان والوں کے ساتھ فرشتوں کے سلوک کا ذکر گزرا ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کے ساتھ ایمان والوں کے لیے استغفار اور وہ دعائیں کرتے ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا ہے۔ اب ایمان والوں کے بعد کفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے سلوک کا ذکر ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے اعمال دیکھیں گے تو اپنے آپ پر شدید غصے ہوں گے، اس وقت فرشتے انھیں پکار کر کہیں گے: «لَمَقْتُاللّٰهِاَكْبَرُ» کہ اب تمھیں جہنم میں جلتے ہوئے اپنے آپ پر جتنا شدید غصہ آ رہا ہے، یقین جانو! دنیا میں جب تمھیں ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو تم پر اس سے بھی شدید غصہ آتا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔