ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 99

فَاُولٰٓئِکَ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّعۡفُوَ عَنۡہُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴿۹۹﴾
تو یہ لوگ، اللہ قریب ہے کہ انھیں معاف کر دے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والاہے۔ En
قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کردے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے
En
بہت ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر کرے، اللہ تعالیٰ درگزر کرنے واﻻ اور معاف فرمانے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 99) {فَاُولٰٓىِٕكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّعْفُوَ عَنْهُمْ:} اللہ تعالیٰ کے لیے {عَسَى} کا لفظ یقین کے لیے ہوتا ہے، اس لیے اگر کوئی شخص واقعی ہجرت نہیں کر سکتا، وہ کفار کی قید میں ہے، یا اسے راستے کا علم نہیں، یا اس کے پاس زاد راہ نہیں، غرض کوئی بھی صحیح عذر ہے تو یقینا اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمائے گا، مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے امید کے انداز میں بات کرنے میں حکمت بھی ہے کہ بندے بے خوف نہ ہو جائیں۔