ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 85

مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً حَسَنَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ نَصِیۡبٌ مِّنۡہَا ۚ وَ مَنۡ یَّشۡفَعۡ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃً یَّکُنۡ لَّہٗ کِفۡلٌ مِّنۡہَا ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ مُّقِیۡتًا ﴿۸۵﴾
جو کوئی سفارش کرے گا، اچھی سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہوگا اور جو کوئی سفارش کرے گا، بری سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک بوجھ ہوگا اور اللہ ہمیشہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ En
جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں سے حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے اس کو اس (کے عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
En
جو شخص کسی نیکی یا بھلے کام کی سفارش کرے، اسے بھی اس کا کچھ حصہ ملے گا اور جو برائی اور بدی کی سفارش کرے اس کے لئے بھی اس میں سے ایک حصہ ہے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 85) { مَنْ يَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً …:} اوپر کی آیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ مومنوں کو جہاد کی ترغیب دو، جو اعمالِ حسنہ میں سے ہے، یہاں بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر اجر عظیم ملے گا۔ پس یہاں شفاعت حسنہ سے ترغیب جہاد مراد ہے اور شفاعت سیئہ سے مراد اس کارخیر سے روکنا ہے، دوسرے کاموں کے لیے سفارش کا بھی یہی حکم ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سفارش کرو تمھیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ فرمائے گا۔ [بخاری، الزکاۃ، باب التحریض علی الصدقۃ…: ۱۴۳۲، عن أبی موسٰی رضی اللہ عنہ]