ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 79

مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ حَسَنَۃٍ فَمِنَ اللّٰہِ ۫ وَ مَاۤ اَصَابَکَ مِنۡ سَیِّئَۃٍ فَمِنۡ نَّفۡسِکَ ؕ وَ اَرۡسَلۡنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوۡلًا ؕ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًا ﴿۷۹﴾
جو کوئی بھلائی تجھے پہنچے سو اللہ کی طرف سے ہے اور جو کوئی برائی تجھے پہنچے سو تیرے نفس کی طرف سے ہے اور ہم نے تجھے تمام لوگوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کافی گواہ ہے۔ En
اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے
En
تجھے جو بھلائی ملتی ہے وه اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے وه تیرے اپنے نفس کی طرف سے ہے، ہم نے تجھے تمام لوگوں کو پیغام پہنچانے واﻻ بنا کر بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ گواه کافی ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 79) ➊ { مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ …:} اس میں برائی اور بھلائی کا ایک قانون بیان فرما دیا ہے کہ بھلائی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے اس کا بھیجنے والا بھی گو اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے مگر اس کا سبب تمھارے گناہ ہوتے ہیں۔ (دیکھیے سورۂ شوریٰ: ۳۰) اس لیے سلف صالحین کا عام قاعدہ تھا کہ جب کوئی اجتہادی رائے پیش کرتے تو کہتے، اگر یہ صحیح ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اسی کی توفیق سے ہے اور اگر غلط ہے تو ہماری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ (ابن کثیر) اوپر کی آیت میں پیدا کرنے اور وجود میں لانے کے اعتبار سے {حَسَنَةٍ} اور { سَيِّئَةٍ } دونوں کو { مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ } (اللہ کی طرف سے) قرار دیا ہے کہ دونوں چیزیں اسی نے پیدا کی ہیں، لیکن یہاں سبب اور کسب کی مناسبت سے برائی کی نسبت انسان کی طرف کر دی ہے، لہٰذا کوئی تعارض نہیں ہے۔ (رازی) موضح میں ہے: بندہ کو چاہیے کہ نیکی اللہ کا فضل سمجھے اور تکلیف اپنی تقصیر سے۔ تقصیروں سے اللہ واقف ہے اور وہی جزا دیتا ہے۔
➋ { وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا …:} یعنی آپ کا اصل منصب رسالت اور تبلیغ ہے اور اللہ گواہ ہے کہ آپ نے اس امانت کے ادا کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی اور وہ کافی گواہ ہے، پھر اس کے بعد بھی اگر کسی کو ہدایت نہیں ہوتی تو آپ کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ (رازی) نیز یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی رسالت کا بیان بھی ہے کہ آپ تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہیں۔دیکھیے سورۂ اعراف (۱۰۸) اور سورۂ سبا (۲۸)۔