ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 41

فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ؃۴۱﴾
پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ En
بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے
En
پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواه ہم ﻻئیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بناکر ﻻئیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن ظلم کی نفی اور کئی گنا اجر کا وعدہ فرمایا، اب یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اچھا یا برا بدلہ پیغمبروں یا ان لوگوں کی گواہی سے ملے گا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اپنی مخلوق تک پہنچایا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر اور پہلی امتوں پر دین پہنچانے کی گواہی دیں گے۔