ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 39

وَ مَاذَا عَلَیۡہِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِہِمۡ عَلِیۡمًا ﴿۳۹﴾
اور ان پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لے آتے اور اس میں سے خرچ کرتے جو انھیں اللہ نے دیا ہے اور اللہ ہمیشہ سے انھیں خوب جاننے والا ہے۔ En
اور اگر یہ لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان لاتے اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے تو ان کا کیا نقصان ہوتا اور خدا ان کو خوب جانتا ہے
En
بھلا ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان ﻻتے اور اللہ تعالیٰ نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرتے، اللہ تعالیٰ انہیں خوب جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 40،39) بخل اور ریا کاری کی مذمت کے بعد ایمان و طاعت اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی، پھر مزید ترغیب کے لیے فرمایا کہ جب ذرا ذرا سی چیز کا اللہ تعالیٰ کئی گنا اجر دیتے ہیں، پھر لوگ کیوں نیک کاموں میں سستی کرتے اور ریا کاری سے کام لے کر اپنے اجر کو ضائع کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو خبر دی ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ ایک نیکی ہو گی تو اسے بھی بڑھا چڑھا کر اپنے پاس سے اجر عظیم دے کر نجات کا باعث بنا دے گا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک طویل حدیث) میں فرمایا: اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) فرمائے گا، تم جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی خیر (یعنی ایمان) کو پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ، چنانچہ وہ بہت سی مخلوق کو نکال لائیں گے۔ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد ابو سعید رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: اگر تم مجھے اس حدیث میں سچا نہ جانو تو یہ آیت پڑھو: «{ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَ اِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْهَا [مسلم، الإیمان، باب معرفۃ الطریق الرؤیۃ: ۱۸۳] بے شک اللہ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک نیکی ہو گی تو اسے دگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا، یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی ہے۔