وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کا حکم دیتے ہیں اور اسے چھپاتے ہیں جو اللہ نے انھیں اپنے فضل سے دیا ہے اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
En
جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو (مال) خدا نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اسے چھپا چھپا کے رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لئے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے
جو لوگ خود بخیلی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخیلی کرنے کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو اپنا فضل انہیں دے رکھا ہے اسے چھپا لیتے ہیں ہم نے ان کافروں کے لئے ذلت کی مار تیار کر رکھی ہے
En
(آیت 37) اس آیت میں بخل کی مذمت کی گئی ہے اور بخیل کے لیے کافر کا لفظ استعمال کیا ہے، کیونکہ کافر کا معنی چھپانے والا ہے اور بخیل بھی اللہ کی نعمت کو چھپانے والا ہوتا ہے۔ بعض سلف نے اس آیت میں بخل کے لفظ کو یہودیوں کے بخل پر محمول کیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور علامات کو لوگوں سے چھپاتے تھے۔ غرض بخل مال کا ہو یا علم کا شدید مذموم ہے۔ (ابن کثیر)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔