ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 28

یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّخَفِّفَ عَنۡکُمۡ ۚ وَ خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ ضَعِیۡفًا ﴿۲۸﴾
اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (بوجھ) ہلکا کرے اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ En
خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعاً) کمزور پیدا ہوا ہے
En
اللہ چاہتا ہے کہ تم سے تخفیف کر دے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) {يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّخَفِّفَ عَنْكُمْ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کو انسان کی کمزوری کا خوب علم ہے کہ عورتوں کے معاملے میں یہ کس قدر کمزور ہے، اس لیے احکام شریعت میں اس کی سہولت کا خیال رکھا گیا ہے اور دین میں سختی نہیں برتی گئی، فرمایا: { «‏‏‏‏وَ مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ [الحج: ۷۸] اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک دین آسان ہے۔ [بخاری، الإیمان، باب الدین یسر: ۳۹، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمھارے پاس نہایت آسان حنیفی شریعت لے کر آیا ہوں۔ [مسند أحمد، 266/5، ح: ۲۲۳۵۴۔ بخاری، الإیمان، باب الدین یسر، قبل ح: ۳۹]
شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: دین اسلام میں کوئی تنگی نہیں کہ کوئی حلال کو چھوڑے اور حرام کو دوڑے۔ (موضح)