اور اگر تم کسی بیوی کی جگہ اور بیوی بدل کر لانے کا ارادہ کرو اور تم ان میں سے کسی کو ایک خزانہ دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو، کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح گناہ کر کے لو گے۔
En
اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو۔ اور پہلی عورت کو بہت سال مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لے لوگے؟
اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا ہی چاہو اور ان میں سے کسی کو تم نے خزانہ کا خزانہ دے رکھا ہو، تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو کیا تم اسے ناحق اور کھلا گناه ہوتے ہوئے بھی لے لو گے، تم اسے کیسے لے لو گے
En
(آیت 21،20) ➊ {وَاِنْاَرَدْتُّمُاسْتِبْدَالَزَوْجٍ …:} یہ عورتوں سے متعلق چوتھا حکم ہے۔ جب پہلی آیات میں بیان فرمایا کہ اگر صحیح طریقے سے ساتھ نہ رہنے کی وجہ عورت کی جانب سے ہو تو مہر واپس لینے کے لیے اسے تنگ کرنا جائز ہے، یہاں بتایا کہ جب زیادتی شوہر کی جانب سے ہو تو پھر عورت سے فدیۂ طلاق لینا ممنوع اور حرام ہے۔ یعنی بلاوجہ تنگ کر کے ان سے مہر واپس لو گے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی بہتان باندھ کر مہر واپس لے رہا ہے اور اس صورت میں تم ان پر دوہرا ظلم کرو گے، ایک بلاوجہ تنگ کرنا اور دوسرا مہر واپس لینا، اس لیے اسے {”اِثْمًامُّبِيْنًا“} فرمایا۔ ➋ {وَاٰتَيْتُمْاِحْدٰىهُنَّقِنْطَارًا:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ مہر کی کوئی حد معین نہیں ہے، خاوند اپنی حیثیت کے مطابق جتنا مہر دینا چاہے دے سکتا ہے۔ اس مقام پر امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مہر زیادہ رکھنے سے منع کرنے پر ایک عورت کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے جس نے زیادہ مہر کے جواز کے لیے یہ آیت پڑھی تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ عمر سے ہر شخص زیادہ سمجھ دار ہے اور اس سے کئی دشمنان صحابہ عمر رضی اللہ عنہ پر طعن کرتے ہیں۔ عورت کا واقعہ کسی صحیح سند سے ثابت نہیں، تفصیل کے لیے دیکھیں ارواء الغلیل (۱۹۲۷)۔ ➌ {وَكَيْفَتَاْخُذُوْنَهٗوَقَدْاَفْضٰى …:} اس سے معلوم ہوا کہ جماع کے بعد دیا ہوا مہر واپس نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ آپ نے لعان کرنے والے مرد کے مہر واپس لینے کے مطالبے پر فرمایا تھا: ”اگر تم نے اپنی بیوی پر زنا کی بات سچ کہی ہے تو مہر اس کے عوض ہے جو تم نے اس کی شرم گاہ اپنے لیے حلال کی اور اگر اس پر جھوٹ کہا ہے تو پھر تو (مہر کی واپسی) زیادہ ہی بعید ہے۔“[بخاری، الطلاق، باب قول الإمام للمتلاعنین… ۵۳۱۲۔ مسلم: ۵؍۱۴۹۳، عن ابن عمر رضی اللہ عنہما] ➍ {وَاَخَذْنَمِنْكُمْمِّيْثَاقًاغَلِيْظًا:} ” پختہ عہد“ سے مراد عقد نکاح ہے، یعنی تمھارا یہ کہنا کہ میں نے فلاں عورت سے نکاح قبول کیا۔ اب طلاق کی صورت میں دو ہی راستے ہیں: «فَاِمْسَاكٌۢبِمَعْرُوْفٍاَوْتَسْرِيْحٌۢبِاِحْسَانٍ» [البقرۃ: ۲۲۹] اور ظاہر ہے کہ طلاق دے کر مہر نہ دینا ان دونوں میں سے ایک بھی نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔