ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 169

اِلَّا طَرِیۡقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا ﴿۱۶۹﴾
سوائے جہنم کی راہ کے، جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ، اور یہ ہمیشہ سے اللہ پر بہت آسان ہے۔ En
ہاں دوزخ کا رستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے
En
بجز جہنم کی راه کے جس میں وه ہمیشہ ہمیشہ پڑے رہیں گے، اور یہ اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 169) {اِلَّا طَرِيْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِيْنَ فِيْهَاۤ اَبَدًا ……:} یعنی جب کفر ہی کی حالت میں مر جائیں گے اور مرنے سے پہلے توبہ نہیں کریں گے تو سیدھے جہنم میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کو جہنم میں لے جانا اور پھر ہمیشہ وہاں رکھنا اﷲ تعالیٰ پر کچھ مشکل نہیں ہے، لہٰذا اب بھی ان کے لیے موقع ہے کہ کفر و عناد سے باز آ جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع اختیار کر لیں۔