ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 154

وَ رَفَعۡنَا فَوۡقَہُمُ الطُّوۡرَ بِمِیۡثَاقِہِمۡ وَ قُلۡنَا لَہُمُ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلۡنَا لَہُمۡ لَا تَعۡدُوۡا فِی السَّبۡتِ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ﴿۱۵۴﴾
اور ہم نے ان پر پہاڑ کو ان کا پختہ عہد لینے کے ساتھ اٹھا کھڑا کیا اور ہم نے ان سے کہا دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو جائو اور ہم نے ان سے کہا کہ ہفتے کے دن میں زیادتی مت کرو اور ہم نے ان سے ایک مضبوط عہد لیا۔ En
اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا
En
اور ان کا قول لینے کے لئے ہم نے ان کے سروں پر طور پہاڑ ﻻ کھڑا کردیا اور انہیں حکم دیا کہ سجده کرتے ہوئے دروازے میں جاؤ اور یہ بھی فرمایا کہ ہفتہ کے دن میں تجاوز نہ کرنا اور ہم نے ان سے سخت سے سخت قول وقرار لئے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 154) ➊ { وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۳) اور { ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا } کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ(۵۸، ۵۹)۔
➋ {وَ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِي السَّبْتِ:} اصحاب سبت جنھیں ہفتے کے دن مچھلی کے شکار سے منع کیا گیا تھا، ان کے قصے کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۵) اور سورۂ اعراف (۱۶۳)۔