ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 149

اِنۡ تُبۡدُوۡا خَیۡرًا اَوۡ تُخۡفُوۡہُ اَوۡ تَعۡفُوۡا عَنۡ سُوۡٓءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا قَدِیۡرًا ﴿۱۴۹﴾
اگر تم کوئی نیکی ظاہر کرو، یا اسے چھپائو، یا کسی برائی سے در گزر کرو تو بے شک اللہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ En
اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنے والا (اور) صاحب قدرت ہے
En
اگر تم کسی نیکی کو علانیہ کرو یا پوشیده، یا کسی برائی سے درگزر کرو، پس یقیناً اللہ تعالیٰ پوری معافی کرنے واﻻ اور پوری قدرت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 149) {اِنْ تُبْدُوْا خَيْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا ……:} اس آیت میں معاف کر دینے کی ترغیب ہے، یعنی اگرچہ ظالم کا شکوہ یا اس کے حق میں بد دعا جائز ہے، تاہم عفو و درگزر سے کام لینا بہتر ہے، کیونکہ اﷲ تعالیٰ خود پوری قدرت رکھنے کے باوجود بہت معاف کرنے والا ہے، رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مال صدقے سے کم نہیں ہوتا اور معاف کر دینے سے اﷲ تعالیٰ بندے کی عزت میں اضافہ ہی کرتا ہے اور کوئی شخص اﷲ کے لیے نیچا نہیں ہوتا مگر اﷲ تعالیٰ اسے اونچا کر دیتا ہے۔ [مسلم، البر والصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع: ۲۵۸۸]