ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 144

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۴۴﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بنائو، کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کے لیے اپنے خلاف ایک واضح حجت بنا لو۔ En
اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو؟
En
اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی صاف حجت قائم کر لو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 144) ➊ {لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَ …:} اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کافروں کو دوست بنانے کی جگہ جگہ ممانعت کی ہے، دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۸)، سورۂ مائدہ (۵۱)، سورۂ مجادلہ (۲۲) اور سورۂ ممتحنہ(۱)۔
➋ { اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا …:} یعنی اس کے حکم کی خلاف ورزی کر کے عذاب الٰہی کے لیے ایسی واضح اور کھلی دلیل اپنے اوپر قائم کرنا چاہتے ہو کہ اس کے بعد مستحق عذاب ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے۔