ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 118

لَّعَنَہُ اللّٰہُ ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنۡ عِبَادِکَ نَصِیۡبًا مَّفۡرُوۡضًا ﴿۱۱۸﴾ۙ
جس پر اللہ نے لعنت کی اور جس نے کہا کہ میں ہر صورت تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ ضرور لوں گا۔ En
جس پر خدا نے لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا۔
En
جسے اللہ نے لعنت کی ہے اور اس نے بیڑا اٹھایا ہے کہ تیرے بندوں میں سے میں مقرر شده حصہ لے کر رہوں گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 118) {نَصِيْبًا مَّفْرُوْضًا:} یعنی تیرے بندوں میں سے ایک گروہ کو اپنی راہ پر ڈال لوں گا، وہ اپنے مال میں میرا حصہ مقرر رکھیں گے، جیسے بتوں اور قبروں کے نام کی نذر و نیاز نکالی جاتی ہے۔ (موضح) جتنے گمراہ دوزخی ہیں سب نصیب شیطان (شیطان کے حصے) میں شامل ہیں۔ (قرطبی) شیطان ملعون اپنی سرکشی سے خود بھی گمراہ ہوا اور انسانوں کو گمراہ کرنے پر بھی ایسی کمر باندھی کہ نہ دشمنی چھپاتا ہے اور نہ دشمنی سے باز آتا ہے۔