(آیت 112) {”خَطِيْٓئَةً“} کا لفظ غیر ارادی گناہ پر بولا جاتا ہے اور اس کے برعکس { ”اِثْمًا“ } وہ گناہ ہے جو ارادی طور پر کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ خود گناہ کا ارتکاب کرنے کے بعد کسی بے قصور آدمی کو اس میں ملوث کرنے کی کوشش کرنا بہت بڑا گناہ ہے اور کسی بے گناہ شخص پر تہمت لگانے کو بہتان کہا جاتا ہے۔ (قرطبی)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔