وہ لوگوں سے چھپائو کرتے ہیں اور اللہ سے چھپائو نہیں کرتے، حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کو اس بات کا مشورہ کرتے ہیں جسے وہ پسند نہیں کرتا اور اللہ ہمیشہ اس کا جو وہ کرتے ہیں، احاطہ کرنے والا ہے۔
En
یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کے مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تمام) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے
وه لوگوں سے تو چھﭗ جاتے ہیں، (لیکن) اللہ تعالیٰ سے نہیں چھﭗ سکتے، وه راتوں کے وقت جب کہ اللہ کی ناپسندیده باتوں کے خفیہ مشورے کرتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے پاس ہوتا ہے، ان کے تمام اعمال کو وه گھیرے ہوئے ہے
En
(آیت 108) {يَسْتَخْفُوْنَمِنَالنَّاسِ …:} یعنی ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ گناہوں کا ارتکاب کرنے میں لوگوں سے چھپاؤ تو کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے چھپاؤ نہیں کرتے، جو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ رات کی گھڑیوں میں نامناسب کاموں کے مشورے کر رہے ہوتے ہیں، وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، اس سے بچ کر کہاں جائیں گے؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہونے کے مطلب کے لیے دیکھیے سورۂ حدید (۴) اور سورۂ مجادلہ (۷)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔