ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ النساء (4) — آیت 103

فَاِذَا قَضَیۡتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِکُمۡ ۚ فَاِذَا اطۡمَاۡنَنۡتُمۡ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ۚ اِنَّ الصَّلٰوۃَ کَانَتۡ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ کِتٰبًا مَّوۡقُوۡتًا ﴿۱۰۳﴾
پھر جب تم نماز پوری کر لو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوئوں پر لیٹے ہوئے یاد کرو، پھر جب تم مطمئن ہوجائو تو نماز قائم کرو۔ بے شک نماز ایمان والوں پر ہمیشہ سے ایسا فرض ہے جس کا وقت مقرر کیا ہوا ہے۔ En
پھر جب تم نماز تمام کرچکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بےشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے
En
پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہو اور جب اطمینان پاؤ تو نماز قائم کرو! یقیناً نماز مومنوں پر مقرره وقتوں پر فرض ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 103) ➊{ فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ …:} یعنی صلاۃ الخوف میں نماز کی حالت میں اذکار پورے نہیں ہو سکتے، اس لیے نماز پوری ہونے پر کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرو، تاکہ تلافی ہو جائے، اس کے علاوہ ہر حال میں ذکر کی کثرت ہونی چاہیے۔ جنگ کے موقع پر تو اللہ تعالیٰ نے اس کا خاص حکم دیا، فرمایا: «{ اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ [الأنفال: ۴۵] جب تم کسی گروہ کے مقابل ہو تو جمے رہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
➋ { فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ:} یعنی جب خوف کی حالت ختم ہو جائے اور دشمن کا کوئی خطرہ نہ رہے تو نماز کو اس کے پورے ارکان و شرائط اور حدود کے ساتھ مقررہ اوقات پر ادا کرو۔ ہاں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء جمع کر کے پڑھی ہیں، جیسا کہ عرفات، مزدلفہ اور دوسرے سفروں میں جمع کیا ہے، تو سفر میں جمع کرنے کی رعایت بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس سے تو وقت مقرر کرنے کا اختیار ہی نہ تھا۔ اس لیے اس کا وقت وہی ہے۔