ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 50

قَدۡ قَالَہَا الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَمَاۤ اَغۡنٰی عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۵۰﴾
بلا شبہ یہی بات ان لوگوں نے کہی جو ان سے پہلے تھے تو ان کے کام نہ آیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔ En
جو لوگ ان سے پہلے تھے وہ بھی یہی کہا کرتے تھے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ان کے کچھ بھی کام نہ آیا
En
ان سے اگلے بھی یہی بات کہہ چکے ہیں پس ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) ➊ { قَدْ قَالَهَا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ:} یعنی ان کفار قریش اور ان کے زمانے اور بعد میں آنے والے کفار سے پہلے بھی بہت سے لوگوں کا یہی عقیدہ اور یہی کہنا تھا، جیسا کہ قارون کو اس کی قوم نے نصیحت کی تو اس نے کہا: «‏‏‏‏اِنَّمَاۤ اُوْتِيْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ عِنْدِيْ» ‏‏‏‏ [القصص: ۷۸] (یہ سب کچھ) مجھے تو ایک علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو میرے پاس ہے۔ قارون کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ قصص (۷۶ تا ۸۲)۔
➋ { فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ:} یعنی یہ کہنے والوں پر کہ ہمیں سب کچھ ہمارے علم کی بنا پر دیا گیا ہے جب اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا، جیسا کہ قارون کو اس کے مال و محلات سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا، تو انھوں نے جو مال، اولاد کمائے تھے اور جو دنیوی مہارت حاصل کی تھی وہ ان کے کسی کام نہ آئی۔