ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 27

وَ لَقَدۡ ضَرَبۡنَا لِلنَّاسِ فِیۡ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنِ مِنۡ کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ۚ۲۷﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال بیان کی ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ En
اور ہم نے لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اس قرآن میں ہر طرح کی مثالیں بیان کی ہیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں
En
اور یقیناً ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر قسم کی مثالیں بیان کر دیں ہیں کیا عجب کہ وه نصیحت حاصل کر لیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 27){ وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ …:} مثال کے ساتھ بات کرنے سے وہ بات جلد سمجھ میں آجاتی ہے اور خوب ذہن نشین ہو جاتی ہے، خصوصاً ایسی مثالیں جن کا آدمی کی اپنی زندگی اور گردوپیش کی اشیاء سے تعلق ہو اور اسے روز مرہ ان سے واسطہ پڑتا ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ہر قسم کی مثالیں بیان فرمائی ہیں، جیسا کہ اپنی توحید سمجھانے کے لیے آدمیوں کو خود ان کی مثالیں دے کر سمجھایا۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۸) اور نحل (۷۵ـ، ۷۶)۔