ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ ص (38) — آیت 66

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا الۡعَزِیۡزُ الۡغَفَّارُ ﴿۶۶﴾
جو آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے اور ان چیزوں کا جو ان دونوں کے درمیان ہیں ، سب پر غالب، بہت بخشنے والا ہے۔ En
جو آسمانوں اور زمین اور جو مخلوق ان میں ہے سب کا مالک ہے غالب (اور) بخشنے والا
En
جو پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، وه زبردست اور بڑا بخشنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 66) {رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَيْنَهُمَا …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی تین صفات بیان ہوئی ہیں جو اللہ کے سوا کسی میں نہیں پائی جاتیں، پھر کسی اور کی عبادت کیوں، جو نہ واحد ہے نہ قہر اور دبدبے کا مالک، نہ آسمان و زمین اور ان کے مابین کا رب ہے، نہ ہی اس کے ہاتھ میں قوت و اقتدار ہے اور نہ ہی گناہوں کو بخشنے کا اختیار؟