ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ ص (38) — آیت 62

وَ قَالُوۡا مَا لَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمۡ مِّنَ الۡاَشۡرَارِ ﴿ؕ۶۲﴾
اور وہ کہیں گے ہمیں کیا ہے کہ ہم ان آدمیوں کو نہیں دیکھ رہے جنھیںہم بد ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے۔ En
اور کہیں گے کیا سبب ہے کہ (یہاں) ہم ان شخصوں کو نہیں دیکھتے جن کو بروں میں شمار کرتے تھے
En
اور جہنمی کہیں گے کیا بات ہے کہ وه لوگ ہمیں دکھائی نہیں دیتے جنہیں ہم برے لوگوں میں شمار کرتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62) {وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا …: الْاَشْرَارِ شَرٌّ} کی جمع ہے، جو اصل میں {أَشَرُّ} اسم تفضیل ہے، بدترین لوگ۔ یعنی جہنمی آگ میں چاروں طرف نگاہ ڈالیں گے تو انھیں اپنے چودھری، سردار اور پیشوا تو نظر آئیں گے مگر وہ مومن نظر نہیں آئیں گے جنھیں وہ دنیا میں مذاق کیا کرتے تھے۔ اس پر وہ حسرت و افسوس اور تعجب سے کہیں گے، ہمیں کیا ہے کہ ہم جہنم میں اپنے ساتھ ان ایمان والوں کو نہیں دیکھ رہے جنھیں ہم دنیا میں بد ترین لوگوں میں شمار کرتے تھے؟