ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ ص (38) — آیت 30

وَ وَہَبۡنَا لِدَاوٗدَ سُلَیۡمٰنَ ؕ نِعۡمَ الۡعَبۡدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿ؕ۳۰﴾
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا، اچھا بندہ تھا، بے شک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا۔ En
اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کئے۔ بہت خوب بندے (تھے اور) وہ (خدا کی طرف) رجوع کرنے والے تھے
En
اور ہم نے داؤد کو سلیمان (نامی فرزند) عطا فرمایا، جو بڑا اچھا بنده تھا اور بے حد رجوع کرنے واﻻ تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) ➊ { وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَيْمٰنَ:} داؤد علیہ السلام پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے انھیں سلیمان جیسا بلند مرتبے والا بیٹا عطا کیا۔ جو ان کی طرح نبی تھا اور ایسا بادشاہ تھا کہ اس کے بعد ایسا بادشاہ نہیں ہوا۔ سلیمان علیہ السلام کے واقعات کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء (۷۸ تا ۸۱)، نمل (۱۵ تا ۴۴) اور سبا (۱۲)۔
➋ { نِعْمَ الْعَبْدُ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ: اَوَّابٌ آبَ يَؤُوْبُ أَوْبًا} (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت رجوع کرنے والا۔ یعنی وہ اللہ کے بہت اچھے بندے تھے اور اپنے ہر معاملے میں اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والے تھے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بنا پر نہیں اٹھاتے تھے۔ آگے ان کے اللہ تعالیٰ کا اچھا بندہ اور اس کی طرف بہت رجوع کرنے والا ہونے کی مثال کے طور پر ان کے دو واقعات بیان فرمائے ہیں۔