ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ ص (38) — آیت 16

وَ قَالُوۡا رَبَّنَا عَجِّلۡ لَّنَا قِطَّنَا قَبۡلَ یَوۡمِ الۡحِسَابِ ﴿۱۶﴾
اور انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں ہمارا حصہ یوم حساب سے پہلے جلدی دے دے۔ En
اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دے دے
En
اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب! ہماری سرنوشت تو ہمیں روز حساب سے پہلے ہی دے دے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 16) {وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا …: قَطَّ يَقُطُّ قَطًّا } (ن) قلم وغیرہ کا سرا کاٹنا۔ {قِطٌّ} حصے کو کہتے ہیں، کیونکہ ہر ایک کو اس کا حصہ کاٹ کر دیا جاتا ہے۔ انعام کے لیے کاغذ کا جو ٹکڑا لکھ کر دیا جاتا ہے اسے بھی {قِطٌّ} کہتے ہیں۔ مراد عذاب میں سے ان کا حصہ ہے، بعض نے اعمال نامہ مراد لیا ہے۔ یعنی کفار قیامت کو ناممکن سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہوئے اور اس کا مذاق اڑاتے ہوئے جرأت کی اس حد تک پہنچ گئے کہ اللہ تعالیٰ سے اس کی ربوبیت کے واسطے سے دعا کرتے ہوئے کہنے لگے، اے ہمارے رب! عذاب میں سے ہمارا جو حصہ ہے وہ ہمیں یوم حساب سے پہلے ابھی جلدی دے دے، جیسا کہ ابوجہل وغیرہ نے نہایت دیدہ دلیری سے کہا تھا: «‏‏‏‏اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ‏‏‏‏ [الأنفال: ۳۲] اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔