(آیت 91){ فَرَاغَاِلٰۤىاٰلِهَتِهِمْ …: ”رَاغَيَرُوْغُ“} (ن) کا معنی خفیہ طور پر جانا، حیلہ کرتے ہوئے تیزی سے جانا، مائل ہونا۔ ابراہیم علیہ السلام چپکے سے ان کے بتوں کی طرف گئے اور ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے کہنے لگے: ”کیا تم کھاتے نہیں؟“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مندر میں بتوں کے سامنے طرح طرح کے کھانے، مٹھائیاں اور پھل وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ مقصد یہ کہ معمولی جانور بھی کم از کم کھاتے تو ہیں، یہ بے جان پتھر جو کھاتے بھی نہیں، انسان ان کی پوجا کیسے کرنے لگا؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔