ترجمہ و تفسیر القرآن الکریم (عبدالسلام بھٹوی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 81

اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۱﴾
یقینا وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔ En
بےشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا
En
وه ہمارے ایمان والے بندوں میں سے تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 81){ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِيْنَ:} کیونکہ وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان بندوں کے مراتب میں سب سے بلند مرتبہ ہے، کیونکہ اس میں دین کے تمام عقائد و اعمال آ جاتے ہیں، پھر جیسے جیسے ایمان کامل ہو گا ویسے ہی جزا کامل ہوگی۔ اور ظاہر ہے نوح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کے ایمان کے کمال تک عام لوگوں کا ایمان نہیں پہنچ سکتا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم بنایا، ان کے ایمان کا درجہ تو سب سے عالی ہے۔