(آیت 81){ اِنَّهٗمِنْعِبَادِنَاالْمُؤْمِنِيْنَ:} کیونکہ وہ ہمارے مومن بندوں سے تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان بندوں کے مراتب میں سب سے بلند مرتبہ ہے، کیونکہ اس میں دین کے تمام عقائد و اعمال آ جاتے ہیں، پھر جیسے جیسے ایمان کامل ہو گا ویسے ہی جزا کامل ہوگی۔ اور ظاہر ہے نوح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کے ایمان کے کمال تک عام لوگوں کا ایمان نہیں پہنچ سکتا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تو اللہ تعالیٰ نے سید ولد آدم بنایا، ان کے ایمان کا درجہ تو سب سے عالی ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔